اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ابوالفضل شکارچی نے اسپوتنک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلاشک و شبہ ہم ایرانی جہاز پر ہوئے حملے کا جواب دیں گے لیکن فی الحال جب تک تحقیقات جاری ہیں اور واقعے کے سلسلے میں ابہامات کی شناخت ہونے تک ہم تحمل سے کام لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم خلیج فارس کے کسی بھی ساحلی ملک پر اپنے بحری جہاز پر حملے کا الزام نہیں لگا رہے ہیں بلکہ ہمارا الزام، ہمارے براہ راست دشمنوں یعنی صیہونی حکومت اور امریکہ پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کو کمزور بنانے اور اسے نقصان پہنچانے کی ہر کوشش میں امریکہ کا ہاتھ ہے۔
یاد رہے کہ چھے اپریل کو ایران کے ساویز نامی تجارتی بحری جہاز میں بحیرۂ احمر میں جیبوتی کے ساحل کے قریب ایک دھماکہ ہوا تھا جس سے اسے معمولی سا نقصان پہنچا ہے۔ امریکہ کے ایک عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا تھا کہ اسرائیل نے ایران کے اس بحری جہاز پر حملے کے سلسلے میں واشنگٹن کو مطلع کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲